لکھنؤ، 24 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آئندہ لوک سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہے اور پی ایم نریندر مودی نے جب اتر پردیش کے گورکھپور میں کسان سمان ندھی یوجنا کی شروعات کی تو انہوں نے کسانوں کی مالی حالت کے لئے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا،ساتھ ہی وزیر اعظم نے اس منصوبہ بندی کے لئے اپنی حکومت کی پیٹھ بھی تھپتھپائی۔پی ایم کے طنز پر اب یوپی کی دو اہم جماعتوں (سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی) کے قائدین نے بی جے پی اور پی ایم پر جوابی حملہ کیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے چیف اور یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ٹویٹ کیاکہ کسان اناج پیداکرنے والا جو سارے ملک کا پیٹ بھرتاہے، آج حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے قرض اور سود میں جکڑا ہوا ہے۔مرکز میں حکومت بنتے ہی پہلا کام 100 فیصد قرض معاف کریں گے،پھر ایسی پالیسیاں لائیں گے، جن سے کسان کی ترقی ہو،اب سنہرے انقلاب کا وقت ہے۔
ایس پی صدر نے آگے لکھا کہ کسانوں پر بحران ایک قومی بحران ہے اور اس کے لئے قومی حل کی ضرورت ہے،کوئی بھی اکیلے اسے نہیں تبدیل کر سکتا ہے،ہم ہر جگہ کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم ہر کسان کے لئے ایسی منصوبہ بندی لائیں گے، جن سے ان کا بھلا ہو۔وہیں مایاوتی نے ٹویٹ کیاکہ کسان احترام کے نام پر کچھ کسانوں کو صرف 500 روپے ہر ماہ دینا کھلی توہین ہے،کسان سب سے بڑا محنت کش معاشرہ ہے،ان کو محض تھوڑی سی سرکاری مدد دینے کی بی جے پی حکومت کی سوچ غیر مناسب اور گھمنڈی ہے،کسانوں کو فصل کا فائدہ مند قیمت چاہئے، جس پر بی جے پی نے وعدہ خلافی کی۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے وقت کسان احترام فنڈ کو نوٹ بندي اور جی ایس ٹی کی طرح غلط طور پر لاگو کرکے کسانوں کو صرف 17 روپے یومیہ دینا بی جے پی کی چھوٹی سوچ ہے،اقتدار کا مسلسل غلط استعمال کرنے والی مودی حکومت اب بھی درست لائن پر نہیں آ رہی ہے۔اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے گورکھپور میں ’ کسان سمان ندھی منصوبہ ‘ کو لانچ کرتے ہوئے ایک طرف کسانوں سے خطاب کیا تو دوسری طرف اپوزیشن پر بھی تیکھے حملے کئے۔پی ایم مودی نے اسکیم کے فوائد گناتے ہوئے کہا کہ اس کی منصوبہ بندی کے بارے میں جب ہمارے مخالفین نے پارلیمنٹ میں سنا تو چہرے لٹک گئے تھے۔مہاملاوٹي لوگ پریشان ہو گئے اور اب افواہیں پھیلا رہے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ یہ ان کی پیدائشی فطرت ہے،اب انہوں نے ایسی افواہ پھیلائی ہے کہ مودی نے ابھی تک 2000 روپے دیے ہیں، پھر آئے گا، لیکن سال بھر کے بعد اسے واپس لے لے گا۔